❮
❯
حدیث نمبر: 21159
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِرْقٍ، وَعَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ الضَّحَّاكِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الشِّفَاءِ بِنْتِ عَبْدِ اللهِ، قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا أَسْأَلُهُ، فَجَعَلَ يَعْتَذِرُ إِلَيَّ وَأَنَا أَلُومُهُ، فَحَضَرْتُ الظُّهْرَ، فَخَرَجْتُ حَتَّى دَخَلَتْ عَلَيَّ ابْنَتِي وَهِيَ تَحْتَ شُرَحْبِيلِ بْنِ حَسَنَةَ، فَوَجَدْتُ شُرَحْبِيلَ فِي الْبَيْتِ فَجَعَلْتُ أَلُومُهُ، فَقَالَ: يَا جَارِيَةُ لَا تَلُومِينِي، فَإِنَّهُ «كَانَ لِي ثَوْبٌ اسْتَعَارَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» فَقُلْتُ: بِأَبِي وَأُمِّي كُنْتُ أَلُومُهُ مُنْذُ الْيَوْمَ، وَهَذِهِ حَالُهُ، وَلَا أَشْعُرُ
ترجمہ

سیدہ شفاء بنت عبداللہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں ایک دن رسول اللہ ﷺ کے پاس (کچھ) مانگنے آئی، تو آپ ﷺ مجھ سے معذرت کرنے لگے اور میں آپ ﷺ کو ملامت کرنے لگی۔ پھر ظہر کا وقت ہو گیا تو میں نکلی، یہاں تک کہ اپنی بیٹی کے ہاں گئی جو شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھی۔ میں نے شرحبیل کو گھر میں پایا تو میں انہیں ملامت کرنے لگی۔ انہوں نے کہا: اے بیٹی! مجھے ملامت نہ کرو، میرا ایک کپڑا تھا جو رسول اللہ ﷺ نے عاریتاً لے لیا ہے۔ میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں، میں آج دن بھر آپ ﷺ کو ملامت کرتی رہی اور آپ ﷺ کا یہ حال ہے، اور مجھے پتا ہی نہ تھا۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 21159
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 24، صفحہ 313، حدیث 789