المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
رائطة بنت عبد الله الثقفية امرأة عبد الله بن مسعود باب: سیدہ رائطہ بنت عبداللہ ثقفیہ رضی اللہ عنہا، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی زوجہ
حدیث نمبر: 21039
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ رَائِطَةَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَتْ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: إِنِّي امْرَأَةٌ ذَاتُ صَنْعَةٍ أَبْتَغِي بِهَا، وَلَيْسَ لِي، وَلَا لِزَوْجِي شَيْءٌ، وَلَا لِوَلَدِي يَشْغَلُونِي فَلَا أَتَصَدَّقُ فَقَالَ: «لَكِ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ»ترجمہ
سیدہ رائطہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا، عرض کیا: میں ایک ہنرمند عورت ہوں، اپنے ہنر سے کمائی کرتی ہوں، اور نہ میرے پاس، نہ میرے شوہر کے پاس اور نہ میری اولاد کے پاس کچھ زائد ہے، وہ مجھے مصروف رکھتے ہیں کہ میں صدقہ نہیں کر پاتی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے لیے اس میں وہی اجر ہے جو تم نے ان پر خرچ کیا۔“