المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
خيرة امرأة كعب بن مالك باب: سیدہ خیرہ رضی اللہ عنہا، کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی زوجہ
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ بَنِي كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ جَدَّتِهِ خَيْرَةَ امْرَأَةِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّهَا: أَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِحُلِيٍّ فَقَالَتْ: إِنِّي تَصَدَّقْتُ بِهَذَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ لَا يَجُوزُ لِلْمَرْأَةِ فِي مَالِهَا أَمْرٌ إِلَّا بِإِذْنِ زَوْجِهَا فَهَلِ اسْتَأْذَنْتِ كَعْبًا؟» ، فَقُلْتُ: نَعَمْ فَبَعَثَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كَعْبٍ فَقَالَ: «هَلْ أَذِنْتَ لِخَيْرَةَ أَنْ تَصَّدَّقَ بِحُلِيِّهَا؟» ، فَقَالَ: نَعَمْ فَقَبِلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا، الْخَرْقَاءُ السَّوْدَاءُ، الَّتِي كَانَتْ تُمِيطُ الْأَذَى عَنْ مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،سیدہ خیرہ، کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی اہلیہ، سے روایت ہے کہ وہ زیورات لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: میں نے یہ صدقہ کر دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عورت کے لیے اپنے مال میں اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کوئی تصرف جائز نہیں، تو کیا تم نے کعب سے اجازت لی ہے؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے کعب رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام بھیجا اور دریافت فرمایا: ”کیا تم نے خیرہ کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنے زیورات صدقہ کرے؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے وہ صدقہ قبول فرما لیا۔
(روایت کے آخر میں ایک اور خاتون، ”خرقاء سوداء“، کا ذکر ملتا ہے جو نبی کریم ﷺ کی مسجد سے تکلیف دہ چیزیں ہٹایا کرتی تھیں؛ یہ فقرہ متن میں غیر مربوط اور نامکمل رہ گیا ہے۔)