المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
خولة بنت حكيم بن أمية بن حارثة بن الأوقص بن مرة بن هلال السلمية " امرأة عثمان بن مظعون، وكانت من اللاتي وهبن أنفسهن لرسول الله صلى الله عليه وسلم " باب: سیدہ خولہ بنت حکیم بن امیہ بن حارثہ بن اوقص بن مرہ بن ہلال سلمیہ رضی اللہ عنہا، سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی زوجہ، وہ ان خواتین میں سے تھیں جنہوں نے اپنی ذات رسول اللہ ﷺ کے لیے ہبہ کر دی تھی
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى النَّرْسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، كِلَاهُمَا، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي سُوَيْدٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَقُولُ: زَعَمَتِ الْمَرْأَةُ الصَّالِحَةُ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا وَهُوَ مُحْتَضِنٌ أَحَدَ بَنِي ابْنَتِهِ وَهُوَ يَقُولُ: «وَاللهِ إِنَّكُمْ لَتُبَخِّلُونَ، وَتُجَبِّنُونَ، وَتُجَهِّلُونَ، وإِنَّكُمْ لَمِنْ رَيْحَانِ اللهِ، وإِنَّ آخِرَ وَطْأَةٍ، وَطَأَها رَبُّ الْعَالَمِينَ بِوَجٍّ» زَادَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ، فِي حَدِيثِهِ: قَالَ سُفْيَانُ: آخِرُ غَزْوَةٍ غَزَاهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّائِفَ، وَقَالَ الشَّاعِرُ لأَطْلُبَنَّكُمْ وَطْأَةَ الْمُتَناقِلِنیک بخت خاتون خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا، جو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں، بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک دن باہر نکلے، اس حال میں کہ آپ ﷺ نے اپنی بیٹی کے بیٹوں میں سے ایک کو گود میں اٹھا رکھا تھا اور فرما رہے تھے: ”اللہ کی قسم! تم لوگ (اولاد کی محبت میں) بخیل بنا دیتے ہو، بزدل بنا دیتے ہو اور جاہل بنا دیتے ہو، اور بیشک تم اللہ کے (عطا کردہ) پھولوں میں سے ہو، اور بے شک آخری زوردار پکڑ جو رب العالمین نے کی وہ وَجّ (طائف) میں ہوا۔“ ابن ابی عمر نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا: سفیان کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کا آخری غزوہ طائف کا غزوہ تھا، اور شاعر نے کہا: میں ضرور تمہارا پیچھا کروں گا، بوجھل قدموں والے کی سخت روند کی طرح۔