المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
جميلة بنت أبي ابن سلول الأنصارية امرأة ثابت بن قيس بن شماس باب: سیدہ جمیلہ بنت ابی بن سلول انصاریہ رضی اللہ عنہا، ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کی زوجہ
حدیث نمبر: 20911
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، قَالَا: ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ جَمِيلَةَ بِنْتَ أُبَيِّ بْنِ سَلُولٍ، أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي لَا أَعْتِبُ عَلَى ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ فِي خُلُقٍ، وَلَا دِينٍ، وَلَكِنِّي لَا أُطِيقُهُ بُغْضًا وَأَكْرَهُ الْكُفْرَ فِي الْإِسْلَامِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ؟» ، قَالَتْ: نَعَمْ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنْ يَأْخُذَ مِنْهَا مَا سَاقَ إِلَيْهَا، وَلَا يَزْدَادُ "ترجمہ
سیدہ جمیلہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ثابت بن قیس کے اخلاق یا دین پر کوئی اعتراض نہیں، لیکن مجھے ان سے سخت نفرت ہے، اور میں اسلام میں کفر کی کیفیت کو ناپسند کرتی ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم ان کا باغ انہیں واپس کرو گی؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، تو نبی کریم ﷺ نے ثابت کو حکم دیا کہ وہ اس سے صرف اتنا ہی لیں جتنا انہیں مہر میں دیا تھا، زیادہ نہ لیں۔