المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عبد الله مولى أسماء، عن أسماء باب: عبداللہ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام، کی ان سے روایات
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ، مَوْلَى أَسْمَاءَ، عَنْ أَسْمَاءَ، أَنَّهَا قَالَتْ لَيْلَةَ جَمْعٍ: أَيْ بُنَيَّ، هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ وَهِيَ تُصَلِّي وَقَدْ نَزَلَتْ عِنْدَ الْمُزْدَلِفَةِ، فَقُلْتُ: لَا، فَصَلَّتْ شَيْئًا، ثُمَّ قَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ، هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ قَالَ: وَقَدْ غَابَ الْقَمَرُ، قُلْتُ: نَعَمْ، فَقَالَتْ: فَارْتَحِلُوا فَارْتَحَلْنَا، ثُمَّ مَضَيْنَا بِهَا حَتَّى رَمَتِ الْجَمْرَةَ، ثُمَّ رَجَعَتْ فَصَلَّتِ الصُّبْحَ فِي مَنْزِلِهَا، فَقُلْتُ لَهَا: أَيْ هَنْتَاهُ لَقَدْ غَلَسَتْ، فَقَالَتْ: «أَيْ بُنَيَّ، إِنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلظُّعُنِ»سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے غلام عبداللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے مزدلفہ کی رات، جبکہ وہ مزدلفہ کے پاس اتر چکی تھیں اور نماز پڑھ رہی تھیں، فرمایا: اے بیٹے! کیا چاند غروب ہو گیا؟ میں نے کہا: نہیں۔ تو انہوں نے کچھ دیر نماز پڑھی، پھر فرمایا: اے بیٹے! کیا چاند غروب ہو گیا؟ - وہ کہتے ہیں: اور چاند غروب ہو چکا تھا - میں نے کہا: جی ہاں، تو انہوں نے فرمایا: تو چلو، چنانچہ ہم روانہ ہوئے، پھر ہم ان کے ساتھ چلتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے جمرہ کو کنکری ماری، پھر واپس آ کر اپنی قیام گاہ میں فجر کی نماز پڑھی، تو میں نے ان سے عرض کیا: اے محترمہ! آپ نے تو بہت سویرے (اندھیرے میں) نماز پڑھ لی! تو انہوں نے فرمایا: ”اے بیٹے! نبی اللہ ﷺ نے کجاووں والی عورتوں کو پہلے جانے کی اجازت دی تھی۔“