المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ما روى ابن عباس، عن سودة باب: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جو سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ طَلْحَةَ الْقَنَّادُ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ لَنَا شَاةٌ فَمَاتَتْ فَرَمَيْنَا بِهَا، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا فَعَلَتْ شَاتُكُمْ؟» قُلْنَا: مَاتَتْ فَطَرَحْنَاهَا، فَقَالَ: «أَفَلَا انْتَفَعْتُمْ بِإِهَابِهَا؟» فَقُلْتُ: هِيَ مَيْتَةٌ، فَقَرَأَ هَذِهِ الْآيَةَ: {قُلْ لَا أَجِدُ فِيمَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَى طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَنْ تَكُونَ مَيْتَةً} «إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ أَنْ تَطْعَمُوهَا» فَأَرْسَلُوا بِإِهَابِهَا فَدَبَغُوهُ، فَاتَّخَذُوهُ حَتَّى كَانَ عِنْدَهُمْ شَنًّا "سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہماری ایک بکری تھی جو مر گئی تو ہم نے اسے پھینک دیا، پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور فرمایا: ”تمہاری بکری کا کیا ہوا؟“ ہم نے عرض کیا: مر گئی، ہم نے اسے پھینک دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے اس کی کھال سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا؟“ میں نے عرض کیا: یہ تو مردار ہے۔ تو آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی: ”کہہ دیجیے: مجھے جو وحی کی گئی ہے اس میں کسی کھانے والے پر کوئی چیز حرام نہیں پاتا سوائے اس کے کہ وہ مردار ہو،“ ”اللہ نے تم پر صرف اس کا کھانا حرام کیا ہے۔“ تو انہوں نے اس کی کھال منگوائی اور اسے رنگا اور اسے استعمال میں لاتے رہے یہاں تک کہ وہ ان کے پاس ایک مشکیزہ بن گیا۔