حدیث نمبر: 2040
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فَضَاءَ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ، ثنا مُفَضَّلُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةً مَكْتُوبَةً فَضَمَّ يَدَيْهِ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ أَحَدَثَ فِي الصَّلَاةِ شَيْءٌ؟ قَالَ: «لَا إِلَّا أَنَّ الشَّيْطَانَ أَرَادَ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيَّ فَخَنَقْتُهُ حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ لِسَانِهِ عَلَى يَدَيَّ، وَأَيْمُ اللهِ لَوْلَا مَا سَبَقَنِي إِلَيْهِ أَخِي سُلَيْمَانُ لَنِيطَ إِلَى سَارِيَةِ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ حَتَّى يَطِيفَ بِهِ وِلْدَانُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ»
ترجمہ

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک فرض نماز پڑھی، تو آپ ﷺ نے نماز میں اپنے دونوں ہاتھ ملا لیے، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا نماز میں کوئی نئی بات پیش آئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، البتہ شیطان نے میرے سامنے سے گزرنے کا ارادہ کیا تو میں نے اسے پکڑ کر دبا دیا، یہاں تک کہ میں نے اپنے ہاتھوں پر اس کی زبان کی ٹھنڈک محسوس کی، اللہ کی قسم! اگر میرے بھائی سلیمان علیہ السلام کی دعا مجھ سے سبقت نہ کر گئی ہوتی تو میں اسے مسجد کے کسی ستون سے باندھ دیتا، یہاں تک کہ مدینے کے بچے اسے دیکھنے کے لیے اس کے گرد جمع ہو جاتے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب الجيم / حدیث: 2040
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 2، صفحہ 251، حدیث 2053