المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
عمرو بن ثابت، عن سماك باب: عمرو بن ثابت کی سماک سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: مَنْ حَدَّثَكَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ عَلَى الْمِنْبَرِ النَّاسَ جَالِسًا فَكَذِّبْهُ، قَالَ جَابِرٌ: وَأَنَا شَاهِدٌ أَنَّهُ كَانَ يَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ يَجْلِسُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ خِطْبَةَ الْآخِرَةِ، قَالَ: فَقُلْتُ: كَيْفَ كَانَتْ خُطْبَتُهُ؟ قَالَ: «كَلَامًا يَعِظُ بِهِ النَّاسَ وَيَقْرَأُ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللهِ وَكَانَتْ قَصْدًا وَكَانَتْ صَلَاتُهُ قَصْدًا بِنَحْوٍ مِنَ الشَّمْسِ وَضُحَاهَا، وَالسَّمَاءِ وَالطَّارِقِ إِلَّا صَلَاةَ الْغَدَاةِ وَصَلَاةَ الظُّهْرِ، فَإِنَّ بِلَالًا كَانَ يُؤَذِّنُ حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ وَرُبَّمَا أَخَّرَ الْإِقَامَةَ قَلِيلًا وَرُبَّمَا عَجَّلَهَا، فَأَمَّا الْأَذَانُ فَلَا يَخْرِمُ عَنِ الْوَقْتِ، وَالْعَصْرَ نَحْوًا مِمَّا تُصَلُّونَ، وَالْمَغْرِبَ نَحْوًا مِمَّا تُصَلُّونَ، وَالْعِشَاءَ الْآخِرَةَ يُؤَخِّرُهَا عَنْ صَلَاتِكُمْ قَلِيلًا»سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اور میں خود گواہ ہوں کہ آپ ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ دیتے، پھر بیٹھ جاتے، پھر کھڑے ہو کر دوسرا خطبہ دیتے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے پوچھا: آپ ﷺ کا خطبہ کیسا ہوتا تھا؟ انہوں نے کہا: ”وہ ایسا کلام ہوتا جس سے آپ ﷺ لوگوں کو نصیحت کرتے اور کتاب اللہ کی آیات پڑھتے، اور وہ میانہ روی پر ہوتا، اور آپ ﷺ کی نماز بھی میانہ روی پر ہوتی، تقریباً سورۃ ”والشمس وضحاھا“ اور سورۃ ”والسماء والطارق“ جتنی، سوائے فجر اور ظہر کی نماز کے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سورج ڈھلتے ہی اذان دیتے تھے، اور بسا اوقات اقامت میں تھوڑی تاخیر کر دیتے اور بسا اوقات جلدی کر دیتے، لیکن اذان وقت سے نہیں ہٹتی تھی۔ عصر تقریباً اسی طرح جیسے تم پڑھتے ہو، مغرب بھی تقریباً اسی طرح، اور عشاء کی نماز تمہاری نماز سے تھوڑی تاخیر سے پڑھتے تھے۔“