المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
مقسم مولى ابن عباس، عن ميمونة باب: مقسم، ابن عباس رضی اللہ عنہما کے آزاد کردہ غلام، کی سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20371
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، قَالَ: سَأَلْتُ مِقْسَمًا، قَالَ: قُلْتُ إِنِّي أُوتِرُ بِثَلَاثٍ، ثُمَّ أَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ مَخَافَةَ أَنْ تَفُوتَنِي فَقَالَ: «لَا يَصْلُحُ إِلَّا بِخَمْسٍ أَوْ سَبْعٍ» . فَأَخْبَرْتُ مُجَاهِدًا وَيَحْيَى بْنَ الْجَزَّارِ بِقَوْلِهِ، فَقَالَا لِي: أَلَا سَأَلْتَهُ عَمَّنْ؟ فَقَالَ: فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ: عَنِ الثِّقَةِ، عَنْ مَيْمُونَةَ، وَعَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَترجمہ
حَکَم بیان کرتے ہیں: میں نے مِقسَم سے پوچھا، میں نے کہا: میں تین رکعتوں سے وتر پڑھتا ہوں، پھر نماز کے لیے نکل جاتا ہوں اس ڈر سے کہ کہیں نماز فوت نہ ہو جائے، تو انہوں نے فرمایا: ”یہ صرف پانچ یا سات رکعتوں سے ہی درست ہے۔“ تو میں نے مجاہد اور یحییٰ بن جزار کو ان کی یہ بات بتائی، تو انہوں نے مجھ سے کہا: کیا تم نے ان سے یہ نہیں پوچھا کہ یہ کس سے مروی ہے؟ تو میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: ایک ثقہ راوی سے، جو میمونہ اور عائشہ رضی اللہ عنہما سے، نبی کریم ﷺ سے روایت کرتا ہے۔