المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
سليمان بن يسار، عن ميمونة باب: سلیمان بن یسار کی سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ سَمُرَةَ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ الشَّيْبَانِيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَهْدَتْ لِي أُخْتِي أُمُّ حُفَيْدٍ أَضُبًّا فَانْصَرَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْعِشَاءِ وَمَعَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَهُوَ ابْنُ أُخْتِهَا فَقَدَّمَتِ الْأَضُبَّ إِلَيْهِ، فَأَهْوَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَظُنُّ أَنَّهَا دَجَاجَاتٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتَدْرِي مَا هَذَا؟ قَالَ: «لَا» ثُمَّ أَمْسَكَ يَدَهُ فَقُلْتُ هَذَا ضَبٌّ، فَقَالَ: «ذَاكَ طَعَامُ الْأَعْرَابِ» فَقَالَ خَالِدٌ: أَحَرَامٌ هُوَ؟ قَالَ: «لَا» فَأَكَلَ مِنْهُ خَالِدٌ بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُوَ يَنْظُرُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَسیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا زوجِ نبی کریم ﷺ فرماتی ہیں: میری بہن ام حفید نے مجھے کچھ ضب تحفے میں بھیجیں، پھر رسول اللہ ﷺ عشاء (کی نماز) سے واپس تشریف لائے اور آپ ﷺ کے ساتھ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی تھے، جو ان کے بھانجے تھے، تو انہوں نے ضب آپ ﷺ کے سامنے پیش کیں، تو رسول اللہ ﷺ نے یہ سمجھتے ہوئے ہاتھ بڑھایا کہ یہ مرغیاں ہیں، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ جانتے ہیں یہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ پھر اپنا ہاتھ روک لیا، تو میں نے عرض کیا: یہ ضب ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ تو بدوؤں کا کھانا ہے۔“ خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا یہ حرام ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں۔“ تو خالد رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے سامنے اسے کھایا جبکہ آپ ﷺ دیکھ رہے تھے۔