المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
يزيد بن الأصم ابن أخت ميمونة، عن ميمونة باب: یزید بن اصم، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے، کی ان سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ يَزِيدَ الْأَصَمِّ، عَنْ خَالَتِهِ مَيْمُونَةَ أَنَّهَا أُهْدِيَ لَهَا ضَبٌّ فَأَتَاهَا رَجُلَانِ مِنْ قَوْمِهَا، فَأَمَرَتْ بِهِ فَصُنِعَ، ثُمَّ قَرَّبَتْهُ إِلَيْهِمَا، فَجَاءَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا يَأْكُلَانِ فَرَحَّبَ بِهِمَا، ثُمَّ أَخَذَ لِيَأْكُلَ فَلَمَّا أَخَذَ اللُّقْمَةَ إِلَى فِيهِ، قَالَ: «مَا هَذَا؟» قَالَ: ضَبٌّ أُهْدِيَ لَنَا، قَالَتْ: فَوَضَعَ اللُّقْمَةَ وَأَرَادَ الرَّجُلَانِ يَطْرَحَانِ مَا فِي أَفْوَاهِهِمَا فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَفْعَلَا إِنَّكُمْ أَهْلَ نَجْدٍ تَأْكُلُونَهَا، وَإِنَّا أَهْلَ تِهَامَةَ نَعَافُهَا»سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہیں ایک ضب تحفے میں دی گئی، اور ان کے پاس ان کی قوم کے دو آدمی آئے، تو انہوں نے حکم دیا تو وہ پکایا گیا، پھر انہوں نے اسے ان دونوں کے سامنے پیش کیا، تو نبی کریم ﷺ تشریف لائے جبکہ وہ دونوں کھا رہے تھے، تو آپ ﷺ نے ان کا خیرمقدم کیا، پھر کھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا، تو جب لقمہ منہ کے قریب لے گئے تو فرمایا: ”یہ کیا ہے؟“ اس نے کہا: ایک ضب (چھپکلی نما جانور) ہے جو ہمیں تحفے میں دیا گیا ہے۔ وہ فرماتی ہیں: تو آپ ﷺ نے لقمہ رکھ دیا، اور دونوں آدمیوں نے جو کچھ ان کے منہ میں تھا اسے نکال پھینکنا چاہا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایسا مت کرو، تم نجد والے اسے کھاتے ہو، اور ہم تہامہ والے اسے ناپسند کرتے ہیں۔“