المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ما روى ابن عباس، عن خالته ميمونة باب: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جو اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا خَاثِرًا فَقُلْتُ: مَا لِي أَرَاكَ خَاثِرًا؟ فَقَالَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ وَعَدَنِي فَمَا أَخْلَفَنِي» فَظَلَّ يَوْمَهُ كَذَلِكَ وَلَيْلَتَهُ وَمَعِي كَلْبٌ تَحْتَ نَضَدٍ لَنَا، فَأَمَرَ بِهِ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً فَنَضَحَ بِهِ مَكَانَهُ، ثُمَّ جَاءَ جِبْرِيلُ فَقَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ، قَالَتْ: وَكَانَ يُكَلَّمُ فِي كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ فَمَا يَأْذَنُ فِيهِسیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ ایک دن افسردہ حالت میں نکلے، تو میں نے عرض کیا: کیا بات ہے کہ میں آپ کو افسردہ دیکھ رہی ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جبریل نے مجھ سے (آنے کا) وعدہ کیا تھا، اور انہوں نے کبھی مجھ سے وعدہ خلافی نہیں کی۔“ تو آپ ﷺ اس دن اور اس رات اسی حال میں رہے، اور میرے پاس ہمارے کسی سامان کے نیچے ایک کتا تھا، تو آپ ﷺ نے اس کے نکالنے کا حکم دیا، پھر اپنے ہاتھ میں پانی لے کر اس جگہ چھڑکا، پھر جبریل تشریف لائے اور فرمایا: ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر یا کتا ہو۔ اور آپ ﷺ سے چھوٹے باغ کے کتے کے بارے میں کہا جاتا تو آپ ﷺ اس کی اجازت نہ دیتے۔