المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ما روى ابن عباس، عن خالته ميمونة باب: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جو اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی
حدیث نمبر: 20350
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، قَالَتْ: خَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا خَاثِرًا فَقُلْتُ: مَا لِي أَرَاكَ خَاثِرًا؟ فَقَالَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ وَعَدَنِي فَمَا أَخْلَفَنِي» فَظَلَّ يَوْمَهُ كَذَلِكَ وَلَيْلَتَهُ وَمَعِي كَلْبٌ تَحْتَ نَضَدٍ لَنَا، فَأَمَرَ بِهِ، ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ مَاءً فَنَضَحَ بِهِ مَكَانَهُ، ثُمَّ جَاءَ جِبْرِيلُ فَقَالَ: إِنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ، قَالَتْ: وَكَانَ يُكَلَّمُ فِي كَلْبِ الْحَائِطِ الصَّغِيرِ فَمَا يَأْذَنُ فِيهِترجمہ
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ ایک دن افسردہ حالت میں نکلے، تو میں نے عرض کیا: کیا بات ہے کہ میں آپ کو افسردہ دیکھ رہی ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جبریل نے مجھ سے وعدہ کیا تھا مگر وعدہ خلافی نہیں کی۔“ تو آپ ﷺ اس دن اور اس رات اسی حال میں رہے، اور میرے پاس ہمارے کسی سامان کے نیچے ایک کتا تھا، تو آپ ﷺ نے اس کے نکالنے کا حکم دیا، پھر اپنے ہاتھ میں پانی لے کر اس جگہ چھڑکا، پھر جبریل تشریف لائے اور فرمایا: ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصویر یا کتا ہو۔ اور آپ ﷺ سے چھوٹے باغ کے کتے کے بارے میں کہا جاتا تو آپ ﷺ اس کی اجازت نہ دیتے۔