المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
ما روى ابن عباس، عن خالته ميمونة باب: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جو اپنی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْخُرْقِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مِرْدَاسٍ الْأَنْصَارِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ، ثنا عُمَارَةُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ، قَالَتْ مَيْمُونَةُ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ خَاثِرُ النَّفْسِ وَأَمْسَى وَهُوَ كَذَلِكَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا لِي أَرَاكَ خَاثِرًا؟ فَقَالَ: «إِنَّ جِبْرِيلَ وَعَدَنِي أَنْ يَأْتِيَنِي وَمَا أَخْلَفَنِي قَطُّ» فَنَظَرُوا فَإِذَا جِرْوُ كَلْبٍ تَحْتَ نَضَدٍ لَهُمْ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ الْجِرْوِ فَأُخْرِجَ وَأَمَرَ بِذَلِكَ الْمَكَانِ فَغُسِلَ بِالْمَاءِ فَجَاءَ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنْ تَأْتِيَنِي وَمَا أَخْلَفْتَنِي قَطُّ» قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّا لَا نَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ؟سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ ﷺ صبح کو افسردہ اٹھے اور شام تک اسی حال میں رہے، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا بات ہے کہ میں آپ کو افسردہ دیکھ رہی ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جبریل نے مجھ سے آنے کا وعدہ کیا تھا اور انہوں نے آج تک کبھی مجھ سے وعدہ خلافی نہیں کی۔“ تو انہوں نے دیکھا تو ایک کتے کا بچہ ان کے کسی سامان کے نیچے تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے اس بچے کو نکالنے کا حکم دیا اور اس جگہ کو پانی سے دھونے کا حکم دیا، تب جبریل تشریف لائے، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”آپ نے میرے پاس آنے کا وعدہ کیا تھا اور آپ نے کبھی مجھ سے وعدہ خلافی نہیں کی۔“ انہوں نے فرمایا: کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کتا یا تصویر ہو؟