حدیث نمبر: 20266
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عُمَرَ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ كُرَيْبٍ، قَالَ: أَرْسَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ وَأُنَاسٌ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، أَسْأَلُهَا أَيُّ الْأَيَّامِ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ صِيَامًا؟، قَالَتْ: «يَوْمُ السَّبْتِ وَالْأَحَدِ أَكْثَرُ مَا يَصُومُ مِنَ الْأَيَّامِ» ، وَيَقُولُ: «إِنَّهُمَا يَوْمَا عِيدٍ لِلْمُشْرِكِينَ، فَإِنِّي أُحِبُّ أَنْ أُخَالِفَهُمْ»
ترجمہ

کریب بیان کرتے ہیں: مجھے ابن عباس رضی اللہ عنہما اور کچھ لوگوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا کہ میں ان سے پوچھوں کہ رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ کن دنوں میں روزہ رکھتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”ہفتہ اور اتوار کے دن آپ ﷺ سب دنوں سے زیادہ روزہ رکھتے تھے۔“ اور آپ ﷺ فرماتے: ”یہ دونوں مشرکین کی عید کے دن ہیں، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ میں ان کی مخالفت کروں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20266
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 402، حدیث 964