المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
هشام بن عروة، عن أبيه، عن زينب باب: ہشام بن عروہ کی اپنے والد کے واسطے سے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 20208
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ أَنْ يَكُونَ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ، فَإِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْكُمْ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا، فَلَا يَأْخُذُهُ، فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ يَأْتِي بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ» .ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم آپس میں جھگڑتے ہو، اور میں بھی ایک انسان ہوں، ممکن ہے تم میں سے کوئی اپنی دلیل پیش کرنے میں دوسرے سے زیادہ چرب زبان ہو، اور میں تمہارے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں جو میں تم سے سنتا ہوں۔ پس جس کے حق میں، میں نے اس کے بھائی کے حق میں سے کچھ فیصلہ دیا ہو تو وہ اسے نہ لے، کیونکہ میں تو اسے جہنم کی آگ کا ایک ٹکڑا دے رہا ہوں جسے وہ قیامت کے دن لے کر آئے گا۔“