حدیث نمبر: 20206
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَ: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ؟، قَالَ: «لَا إِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي» ، قَالَتْ: إِنَّهُ بَلَغَنِي أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: «بِنْتُ أُمِّ سَلَمَةَ وَاللهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي، إِنَّهَا بِنْتُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ أَرْضَعَتْنِي، وَإِيَّاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ أَخَوَاتِكُنَّ وَلَا بَنَاتِكُنَّ» .
ترجمہ

سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہما اپنی والدہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی ہیں کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ کو میری بہن، ابو سفیان کی بیٹی میں کوئی رغبت ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، وہ میرے لیے حلال نہیں۔“ انہوں نے عرض کیا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ ابو سلمہ کی بیٹی دُرہ کو پیغام دے رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ام سلمہ کی بیٹی؟ اللہ کی قسم! اگر وہ میری زیرِ پرورش ربیبہ نہ ہوتی تب بھی وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی، کیونکہ وہ رضاعت کے اعتبار سے میری بھتیجی ہے، مجھے اور اسے دونوں کو ثویبہ نے دودھ پلایا ہے۔ لہٰذا تم مجھ پر اپنی بہنیں اور بیٹیاں پیش نہ کیا کرو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20206
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 381، حدیث 904