حدیث نمبر: 20189
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُثْمَانُ، قَالَا: ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أُمِّ مُوسَى، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: «وَالَّذِي تَحْلِفُ بِهِ أُمُّ سَلَمَةَ إِنْ كَانَ أَقْرَبُ النَّاسِ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا، كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ، فَكُنْتُ آخِرَ مَنْ خَرَجَ مِنَ الْبَيْتِ، ثُمَّ جَلَسْنَا أَدْنَى مِنَ الْبَابِ وَأَكَبَّ عَلَيْهِ عَلِيٌّ، فَكَانَ آخِرَ النَّاسِ بِهِ عَهْدًا يُسَارُّهُ وَيُنَاجِيهِ»
ترجمہ

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: اس ذات کی قسم جس کی ام سلمہ قسم کھاتی ہے، رسول اللہ ﷺ کے سب سے قریب ترین شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ تھے، ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے، تو میں گھر سے نکلنے والوں میں سب سے آخری تھی، پھر ہم دروازے کے قریب بیٹھ گئے، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ ﷺ پر جھکے رہے، تو وہی آپ ﷺ کے ساتھ آخری وقت گزارنے والے تھے، آپ ﷺ سے سرگوشی اور رازداری میں باتیں کرتے رہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20189
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 375، حدیث 887