حدیث نمبر: 20088
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، ثنا شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ: «يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ وَإِنَّ الْقُلُوبَ لَتَتَقَلَّبُ، قَالَ: «نَعَمْ مَا خَلَقَ اللهُ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ بَشَرٍ إِلَّا وَقَلْبُهُ بَيْنَ أُصْبُعَيْنِ مِنْ أَصَابِعِ اللهِ إِنْ شَاءَ أَقَامَهُ وَإِنْ شَاءَ أَزَاغَهُ، فَنَسْأَلُ اللهَ رَبَّنَا أَنْ لَا يُزِيغَ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا، وَنَسْأَلُهُ أَنْ يَهَبَ لَنَا مِنْ لَدُنْهُ رَحْمَةً إِنَّهُ هُوَ الْوَهَّابُ» ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ فَعَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ لِنَفْسِي، قَالَ: «قُولِي اللهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَأَذْهِبْ غَيْظَ قَلْبِي وَأَجِرْنِي مِنْ مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ»
ترجمہ

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: رسول اللہ ﷺ اکثر یہ دعا پڑھا کرتے تھے: ”اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔“ فرماتی ہیں: میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا دل واقعی بدلتے رہتے ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، اللہ تعالیٰ نے بنی آدم میں سے کوئی بھی انسان ایسا نہیں بنایا جس کا دل اللہ کی دو انگلیوں کے درمیان نہ ہو، اگر چاہے تو اسے سیدھا رکھے اور اگر چاہے تو اسے ٹیڑھا کر دے، تو ہم اللہ اپنے رب سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دلوں کو ٹیڑھا نہ کرے، اور ہم اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا فرمائے، بیشک وہی بہت عطا کرنے والا ہے۔“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ایک دعا سکھا دیجیے جو میں اپنے لیے پڑھوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کہو: اے اللہ! میرا گناہ بخش دے، میرے دل کا غصہ دور کر دے، اور مجھے گمراہ کن فتنوں سے پناہ دے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 20088
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 338، حدیث 785