المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
صالح بن زيد، عن أم سلمة باب: صالح بن زید کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَا: ثنا مُوسَى الْجُهَنِيُّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اجْلِسِي بِالْبَابِ فَلَا يَلِجَنَّ عَلَيَّ أَحَدٌ» ، فَقُمْتُ بِالْبَابِ إِذْ جَاءَ الْحُسَيْنُ وَهُوَ وَصِيفٌ فَذَهَبْتُ أَتَنَاوَلُهُ فَسَبَقَنِي الْغُلَامُ فَدَخَلَ عَلَى جَدِّهِ، فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ جَعَلَنِي اللهُ فِدَاكَ أَمَرْتَنِي أَنْ لَا يَلِجَنَّ عَلَيْكَ أَحَدٌ وَإِنَّ ابْنَكَ جَاءَ فَذَهَبْتُ أَتَنَاوَلُهُ فَسَبَقَنِي، فَلَمَّا طَالَ ذَلِكَ تَطَلَّعْتُ مِنَ الْبَابِ، فَوَجَدْتُكَ تُقَلِّبُ بِكَفِّكَ شَيْئًا وَدُمُوعُكَ تَسِيلُ وَالصَّبِيُّ عَلَى بَطْنِكَ، قَالَ: «نَعَمْ أَتَانِي جِبْرِيلُ، فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّتِي يَقْتُلُونَهُ، وَأَتَانِي بِالتُّرْبَةِ الَّتِي يُقْتَلُ عَلَيْهَا، فَهِيَ الَّتِي أُقَلِّبُ بِكَفِّي»صالح بن زید بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: ”دروازے پر بیٹھ جاؤ، میرے پاس کوئی داخل نہ ہو۔“ میں دروازے پر کھڑی ہو گئی، اتنے میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آئے جو ابھی چھوٹے بچے تھے، تو میں انہیں پکڑنے کے لیے لپکی مگر وہ بچہ مجھ سے پہلے نکل گیا اور اپنے نانا کے پاس داخل ہو گیا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اللہ مجھے آپ پر فدا کرے، آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ آپ کے پاس کوئی داخل نہ ہو، اور آپ کا بیٹا آیا تو میں نے اسے پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ مجھ سے آگے نکل گیا، جب دیر ہو گئی تو میں نے دروازے سے جھانکا، تو دیکھا کہ آپ اپنی ہتھیلی میں کوئی چیز الٹ پلٹ رہے ہیں اور آپ کے آنسو بہہ رہے ہیں، جبکہ بچہ آپ کے پیٹ پر بیٹھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، میرے پاس جبریل آئے اور مجھے بتایا کہ میری امت اسے قتل کرے گی، اور وہ میرے پاس اس زمین کی مٹی بھی لائے جہاں یہ شہید کیا جائے گا، تو یہی وہ مٹی ہے جسے میں اپنی ہتھیلی میں الٹ پلٹ رہا ہوں۔“