المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عبد الله بن رافع مولى أم سلمة، عن أم سلمة باب: عبداللہ بن رافع، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام، کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 19967
حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الرَّازِيُّ، ثنا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ إِلَيَّ، وَإِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَإِنَّمَا أَقْضِي بَيْنَكُمْ عَلَى نَحْوِ مَا أَسْمَعُ مِنْكُمْ، فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ شَيْئًا فَإِنَّمَا أَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِنَ النَّارِ»ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے جھگڑے میرے پاس لاتے ہو، اور میں بھی ایک انسان ہوں، میں تمہارے درمیان اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں جو تم سے سنتا ہوں، پس اگر میں نے کسی کے حق میں اس کے بھائی کا کوئی حق دلوا دیا تو میں نے دراصل اسے آگ کا ایک ٹکڑا دیا ہے۔“