حدیث نمبر: 19965
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ بُكَيْرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ حَدَّثَهُ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنِّي لَكُمْ فَرَطٌ عَلَى الْحَوْضِ، فَإِيَّايَ أَنْ لَا يَأْتِيَ أَحَدُكُمْ فَيَذُبُّ كَمَا يَذُبُّ الْبَعِيرُ الضَّالُّ، فَأَقُولُ: فِيمَ هَذَا؟ فَيُقَالُ: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ، فَأَقُولُ: سُحْقًا ".
ترجمہ

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”میں حوض پر تم سے پہلے پہنچنے والا ہوں، خبردار! تم میں سے کوئی نہ آ پائے اور اسے اس طرح ہٹایا جائے جیسے بھٹکا ہوا اونٹ ہٹایا جاتا ہے، تو میں کہوں: یہ کیوں؟ اور جواب ملے: آپ کو معلوم نہیں کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا نئے کام ایجاد کیے، تو میں کہوں: دور ہو جاؤ، دور ہو جاؤ۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19965
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 297، حدیث 661