المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
سلمة من ولد أم سلمة، عن أم سلمة باب: سلمہ، جو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد میں سے تھے، کی ان سے روایات
حدیث نمبر: 19956
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ، رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: خَاصَمَ الزُّبَيْرُ رَجُلًا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى لِلزُّبَيْرِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: إِنَّمَا قَضَى لَهُ لِأَنَّهُ ابْنُ عَمَّتِهِ، فَنَزَلَتْ " {فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ} [النساء: ٦٥] " الْآيَةَترجمہ
سلمہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس جھگڑا کیا، تو آپ ﷺ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں فیصلہ فرمایا۔ اس شخص نے کہا: آپ ﷺ نے صرف اس لیے ان کے حق میں فیصلہ دیا کہ وہ آپ کی پھوپھی کے بیٹے ہیں۔ تو یہ آیت نازل ہوئی: ”پس آپ کے رب کی قسم! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک آپ کو فیصل نہ بنا لیں“ [سورۃ النساء: 65]۔