المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
المطلب بن عبد الله بن حنطب، عن أم سلمة رضي الله عنها باب: مطلب بن عبداللہ بن حنطب کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ حَنْطَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا ذَاتَ يَوْمٍ فِي بَيْتِي، فَقَالَ: «لَا يَدْخُلْ عَلَيَّ أَحَدٌ» ، فَانْتَظَرْتُ فَدَخَلَ الْحُسَيْنُ فَسَمِعْتُ نَشِيجَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْكِي، فَاطَّلَعْتُ فَإِذَا الْحُسَيْنُ فِي حِجْرِهِ، أَوْ إِلَى جَنْبِهِ، يَمْسَحُ رَأْسَهُ وَهُوَ يَبْكِي، فَقُلْتُ: وَاللهِ مَا عَلِمْتُهُ حِينَ دَخَلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ جِبْرِيلَ كَانَ فِي الْبَيْتِ، فَقَالَ: أَتُحِبُّهُ؟ قُلْتُ: أَمَّا فِي الدُّنْيَا فَنَعَمْ، قَالَ: إِنَّ أُمَّتَكَ سَتَقْتُلُ هَذَا بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا كَرْبَلَاءُ، فَتَنَاوَلَ جِبْرِيلُ مِنْ تُرْبَتِهَا فَأَرَاهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "، فَلَمَّا أُحِيطَ بِالْحُسَيْنِ حِينَ قُتِلَ قَالَ: مَا اسْمُ هَذِهِ الْأَرْضِ؟ قَالُوا: كَرْبَلَاءُ، قَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضُ كَرِبٍ وَبَلَاءٍسیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، فرماتی ہیں: ایک دن رسول اللہ ﷺ میرے گھر میں تشریف فرما تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس کوئی نہ آئے۔“ میں انتظار کرتی رہی، اتنے میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اندر آ گئے، تو میں نے رسول اللہ ﷺ کے رونے کی سسکیاں سنیں، میں نے جھانک کر دیکھا تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی گود میں تھے، یا آپ کے پہلو میں، آپ ﷺ ان کے سر پر ہاتھ پھیر رہے تھے اور رو رہے تھے۔ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! مجھے معلوم ہی نہ ہوا جب وہ اندر آئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جبریل امین گھر میں تھے، انہوں نے پوچھا: کیا آپ اسے پسند کرتے ہیں؟ میں نے کہا: دنیا کی حد تک تو ہاں۔ انہوں نے کہا: آپ کی امت اسے ایک ایسی زمین میں قتل کرے گی جسے کربلا کہا جاتا ہے۔“ پھر جبریل امین نے وہاں کی مٹی میں سے کچھ لے کر نبی کریم ﷺ کو دکھائی۔ پھر جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیے جانے کے وقت گھیر لیا گیا تو انہوں نے پوچھا: اس زمین کا نام کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: کربلا۔ تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا، یہ تکلیف اور مصیبت کی زمین ہے۔