حدیث نمبر: 19936
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنَا أُمُّ سَلَمَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَا هُوَ يَوْمًا قَائِلٌ فِي بَيْتِهَا وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِهِ يَتَحَدَّثُونَ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ كَمْ صَدَقَةُ كَذَا وَكَذَا مِنَ التَّمْرِ؟، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَذَا وَكَذَا» ، قَالَ الرَّجُلُ: فَإِنَّ فُلَانًا تَعَدَّى عَلَيَّ فَأَخَذَ مِنِّي كَذَا وَكَذَا مِنَ التَّمْرِ، فَازْدَادَ صَاعًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَكَيْفَ إِذَا سَعَى عَلَيْكُمْ مَنْ يَتَعَدَّى عَلَيْكُمْ أَشَدَّ مِنْ هَذَا التَّعَدِّي؟» ، فَخَاضَ الْقَوْمُ وَبَهَرَهُمُ الْحَدِيثُ حَتَّى قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللهِ إِذَا كَانَ رَجُلٌ غَائِبٌ عَنْكَ فِي إِبِلِهِ وَمَاشِيَتِهِ وَزَرْعِهِ فَأَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ فَتَعَدَّى عَلَيْهِ الْحَقُّ فَكَيْفَ يَصْنَعُ وَهُوَ غَائِبٌ عَنْكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبَ النَّفْسِ بِهَا يُرِيدُ بِهَا وَجْهَ اللهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةِ، فَلَمْ يُغِيبْ شَيْئًا مِنْ مَالِهِ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ أَدَّى الزَّكَاةَ فَتَعَدَّى عَلَيْهِ فِي الْحَقِّ، فَأَخَذَ سِلَاحًا فَقَاتَلَ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ»
ترجمہ

… ایک دن نبی کریم ﷺ ان کے گھر میں قیلولہ فرما رہے تھے اور آپ ﷺ کے پاس آپ کے ایک صحابی موجود تھے، وہ آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! فلاں فلاں مقدار کھجور پر کتنی زکاۃ ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اتنی اتنی۔“ اس آدمی نے کہا: فلاں شخص نے مجھ پر زیادتی کر کے مجھ سے اتنی اتنی کھجوریں لے لیں اور ایک صاع زیادہ لے لیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”پھر کیا حال ہو گا جب تم پر اس سے بھی بڑھ کر زیادتی کرنے والا زکاۃ وصول کرنے آئے؟“ لوگ اس بات میں غور و فکر کرنے لگے اور یہ بات ان پر گراں گزری، یہاں تک کہ ان میں سے ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! کیسا ہو گا جب کوئی آدمی آپ سے دور اپنے اونٹوں، مویشیوں اور کھیتی میں ہو، اور وہ اپنے مال کی زکاۃ ادا کر دے، پھر حق میں اس پر زیادتی کی جائے، تو وہ کیا کرے جبکہ وہ آپ سے دور ہو؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص اپنے مال کی زکاۃ خوش دلی سے، اللہ کی رضا اور آخرت کا گھر چاہتے ہوئے ادا کرے، اور اپنے مال میں سے کچھ نہ چھپائے، اور نماز قائم کرے، پھر زکاۃ ادا کرے، پھر حق میں اس پر زیادتی کی جائے، تو وہ ہتھیار اٹھا کر لڑے اور مارا جائے، تو وہ شہید ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19936
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 287، حدیث 632