حدیث نمبر: 19920
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ كُرَيْبٍ، قَالَ: أَرْسَلَنِي نَاسٌ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، أَسْأَلُهَا: أَيُّ الْأَيَّامِ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَهَا صَوْمًا؟ فَقَالَتْ: السَّبْتُ وَالْأَحَدُ، وَيَقُولُ: «هُمَا يَوْمَا عِيدٍ لِلْمُشْرِكِينَ فَأُحِبُّ أَنْ أُخَالِفَهُمْ»
ترجمہ

کریب بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے مجھے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا کہ ان سے پوچھوں: رسول اللہ ﷺ سب سے زیادہ کن دنوں میں روزہ رکھتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہفتہ اور اتوار کو، اور آپ ﷺ فرماتے تھے: ”یہ دونوں مشرکین کے تہوار کے دن ہیں، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ ان کی مخالفت کروں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19920
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 283، حدیث 616