المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
الوازع بن نافع، عن أبي سلمة، عن أم سلمة باب: وازع بن نافع کی، ابوسلمہ کے واسطے سے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 19862
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْجَرْجَرَائِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، عَنِ الْوَازِعِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيْنَا جَارِيَةٌ لِحَسَّانَ بْنِ ثَابِتٍ يَوْمَ فِطْرٍ نَاشِرَةً شَعْرَهَا، مَعَهَا دُفٌّ تُغْنِي، فَزَجَرَتْهَا أُمُّ سَلَمَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعِيهَا يَا أُمَّ سَلَمَةَ فَإِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ عِيدًا، وَهَذَا يَوْمُ عِيدِنَا»ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: عید الفطر کے دن حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کی ایک باندی ہمارے پاس آئی، اس کے بال کھلے ہوئے تھے اور اس کے ساتھ دف تھا جس پر وہ گا رہی تھی، تو ام سلمہ نے اسے جھڑکا، اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اسے چھوڑ دو، ام سلمہ! ہر قوم کی کوئی عید ہوتی ہے، اور یہ ہماری عید کا دن ہے۔“