المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عبد الله بن أبي لبيد، عن أبي سلمة، عن أم سلمة باب: عبداللہ بن ابی لبید کی، ابوسلمہ کے واسطے سے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 19844
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي لَبِيدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَلَمْ أَكُنْ أَرَاهُ يُصَلِّيهِمَا فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا هَاتَانِ الرَّكْعَتَانِ، قَالَ: «قَدِمَ وَفْدُ بَنِي تَمِيمٍ، فَكُنْتُ أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ، فَلَمْ أَكُنْ صَلَّيْتُهُمَا فَهُمَا هَاتَانِ»ترجمہ
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور عصر کے بعد دو رکعتیں پڑھیں، حالانکہ میں نے پہلے کبھی آپ ﷺ کو یہ نہیں پڑھتے دیکھا تھا، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ دو رکعتیں کیسی ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بنی تمیم کا وفد آیا تھا، اس لیے میں ظہر کے بعد کی دو رکعتیں نہ پڑھ سکا، سو یہ وہی ہیں۔“