المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
سالم بن أبي الجعد، عن أبي سلمة، عن أم سلمة باب: سالم بن ابی جعد کی، ابوسلمہ کے واسطے سے، سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حدیث نمبر: 19832
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتَا: «مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا سِوَى رَمَضَانَ إِلَّا شَعْبَانَ، فَإِنَّهُ كَانَ يَصِلُهُ بِرَمَضَانَ، فَيَكُونُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ، وَكَانَ يَصُومُ الشَّهْرَ حَتَّى نَقُولَ لَا يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لَا يَصُومُ»ترجمہ
سیدہ عائشہ اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہما دونوں فرماتی ہیں: ”نبی کریم ﷺ رمضان کے سوا کسی مہینے کے روزے نہیں رکھتے تھے سوائے شعبان کے، کیونکہ آپ ﷺ اسے رمضان سے ملا دیتے تھے، تو یہ دو مسلسل مہینے بن جاتے۔ اور آپ ﷺ کبھی اتنا روزہ رکھتے کہ ہم کہتیں کہ آپ روزہ نہیں چھوڑیں گے، اور کبھی اتنا چھوڑتے کہ ہم کہتیں کہ آپ روزہ نہیں رکھیں گے۔“