حدیث نمبر: 19807
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا عَطِيَّةُ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي بَيْتِي {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: ٣٣] ، وَأَنَا جَالِسَةٌ عَلَى الْبَابِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَسْتُ مِنْ أَهْلِ الْبَيْتِ، قَالَ: «أَنْتِ إِلَى خَيْرٍ»
ترجمہ

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتی ہیں کہ یہ آیت میرے گھر میں نازل ہوئی: ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کی گندگی دور کر دے اور تمہیں خوب پاک کر دے۔“ [سورۃ الاحزاب: 33] اور میں دروازے پر بیٹھی تھی، تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں اہلِ بیت میں سے نہیں ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم خیر پر ہو۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19807
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 249، حدیث 503