المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
أم سلمة واسمها هند بنت أبي أمية بن حذيفة بن المغيرة بن عبد الله بن عمرو بن مخزوم بن نقطة بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب باب: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا، نام ہند بنت ابی امیہ بن حذیفہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمرو بن مخزوم بن نقطہ بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب تھا
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ الْحَلَبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ زَوْجِهَا أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُصَابُ بِمُصِيبَةٍ فَيَقُولُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللهُمَّ إِنِّي أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي عِنْدَكَ، اللهُمَّ أَبْدِلْنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَبْدَلَهُ اللهُ بِهَا خَيْرًا مِنْهَا "، فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللهُمَّ إِنِّي أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي فِي أَبِي سَلَمَةَ عِنْدَكَ، اللهُمَّ أَبْدِلْنِي بِهِ خَيْرًا مِنْهُ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ فِي نَفْسِي مِنْ خَيْرٍ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَطَبَنِي، فَقُلْتُ: أَنَا مُصْبِيَةٌ، وَأَنَا غَيُورٌ، وَأَنَا كَبِيرَةُ السِّنِّ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَمَّا كِبَرُ السِّنِّ فَأَنَا أَكْبَرُ مِنْكِ، وَأَمَّا الْغَيْرَةُ فَأَنَا أَدْعُو اللهَ أَنْ يُذْهِبَهَا عَنْكِ، وَأَمَّا الْعِيَالُ فَإِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ» ، فَأَمَرَ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ فَزَوَّجَنِي إِيَّاهُسیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا اپنے شوہر سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”مسلمانوں میں سے جو شخص بھی کسی مصیبت میں مبتلا ہو اور وہ کہے: انا للہ وانا الیہ راجعون، اے اللہ! میں اپنی مصیبت کا اجر تیرے ہاں سے چاہتا ہوں، اے اللہ! مجھے اس کے بدلے اس سے بہتر عطا فرما، تو اللہ اسے اس کے بدلے اس سے بہتر عطا فرما دیتا ہے۔“ پھر جب سیدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: انا للہ وانا الیہ راجعون، اے اللہ! میں ابو سلمہ کے بارے میں اپنی مصیبت کا اجر تیرے ہاں سے چاہتی ہوں، اے اللہ! مجھے ان کے بدلے ان سے بہتر عطا فرما۔ (وہ کہتی ہیں:) پھر میں اپنے دل میں کہنے لگی: ابو سلمہ سے بہتر کون ہو گا؟ پھر رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور مجھے نکاح کا پیغام دیا، تو میں نے عرض کیا: میں بچوں والی ہوں، غیرت مند ہوں اور عمر میں بڑی ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جہاں تک عمر کی بات ہے تو میں تم سے بڑا ہوں، اور جہاں تک غیرت کی بات ہے تو میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ اسے تم سے دور کر دے، اور بچوں کا معاملہ اللہ اور اس کے رسول کے سپرد ہے۔“ چنانچہ عمر بن ابی سلمہ نے حکم دیا اور میرا نکاح آپ ﷺ سے کر دیا۔