حدیث نمبر: 19725
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ لَمَّا جَاءَ نَعْيُ أَبِيهَا دَعَتْ بِطِيبٍ فَمَسَحَتْ بِهِ ذِرَاعَيْهَا، وَقَالَتْ: وَاللهِ مَا لِي بِالطِّيبِ مِنْ حَاجَةٍ، لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا»
ترجمہ

زینب بنت ابی سلمہ بیان کرتی ہیں کہ جب ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کو ان کے والد ابوسفیان کی وفات کی خبر ملی تو انہوں نے خوشبو منگوا کر اپنے بازوؤں پر لگائی اور فرمایا: اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی کوئی ضرورت نہ ہوتی اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا: ”کسی ایسی عورت کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہو، جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین راتوں سے زیادہ سوگ منائے، سوائے شوہر کے، کہ اس پر چار مہینے دس دن سوگ کرے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19725
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 226، حدیث 421