المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
عروة عن زينب باب: عروہ کی زینب سے روایات
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، وَمَعْمَرٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: هَلْ لَكَ فِي أُخْتِي بِنْتِ أَبِي سُفْيَانَ؟، قَالَ: «أَفْعَلُ مَاذَا؟» ، قُلْتُ: تَنْكِحُهَا، قَالَ: «أُخْتَكِ؟» ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «أَوَ تُحِبِّينَ ذَلِكَ؟» ، قُلْتُ: نَعَمْ، لَسْتُ لَكَ بِمُخْلِيَةٍ وَأَحَبُّ - أَوْ قَالَتْ: - وَأَحَقُّ مَنْ شَرِكَنِي فِي خَيْرٍ أُخْتِي، قَالَ: «فَإِنَّهَا لَا تَحِلُّ لِي» ، قَالَتْ: فَوَاللهِ لَقَدْ أُخْبِرْتُ أَنَّكَ تَخْطُبُ دُرَّةَ بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: «بِنْتَ أَبِي سَلَمَةَ؟» ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «فَوَاللهِ لَوْ لَمْ تَكُنْ رَبِيبَتِي فِي حِجْرِي مَا حَلَّتْ لِي إِنَّهَا ابْنَةُ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ، أَرْضَعَتْنِي وَإِيَّاهَا ثُوَيْبَةُ، فَلَا تَعْرِضْنَ عَلَيَّ بَنَاتِكُنَّ وَلَا أَخَوَاتِكُنَّ»ام حبیبہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا: کیا آپ میری بہن، ابوسفیان کی بیٹی کو پسند کریں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں کیا کروں؟“ میں نے کہا: اس سے نکاح کر لیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہاری بہن؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم یہ پسند کرتی ہو؟“ میں نے کہا: جی ہاں، میں تنہا آپ کی حقدار نہیں، اور میری بہن سب سے زیادہ حقدار ہے کہ وہ میرے ساتھ اس بھلائی میں شریک ہو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ میرے لیے حلال نہیں ہے۔“ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! مجھے بتایا گیا ہے کہ آپ دُرہ بنت ابی سلمہ کو پیغام بھیج رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ابوسلمہ کی بیٹی؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! اگر وہ میری پرورش میں میری ربیبہ نہ ہوتی، تب بھی وہ میرے لیے حلال نہ ہوتی، وہ میرے رضاعی بھائی کی بیٹی ہے، مجھے اور اسے ثویبہ نے دودھ پلایا ہے، اس لیے تم اپنی بیٹیاں اور بہنیں میرے سامنے پیش نہ کیا کرو۔“