❮
❯
حدیث نمبر: 19659
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمِصِّيصِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى الْأَشْيَبُ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ أَبِي يَعْفُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَوَضَعَ ثَوْبَهُ بَيْنَ فَخِذَيْهِ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْأَتِهِ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ، فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْأَتِهِ، فَجَاءَ أُنَاسٌ فَأَذِنَ لَهُمْ، فَجَاءَ عَلِيٌّ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى هَيْأَتِهِ، حَتَّى جَاءَ عُثْمَانُ فَاسْتَأْذَنَ، فَتَجَلَّلَ بِثَوْبِهِ ثُمَّ أَذِنَ لَهُ، فَتَحَدَّثُوا سَاعَةً ثُمَّ خَرَجُوا، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ دَخَلَ عَلَيْكَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَعَلِيٌّ، وَنَاسٌ مِنْ أَصْحَابِكَ وَأَنْتَ فِي هَيْأَتِكَ لَيْسَ تُحَرِّكُ، فَلَمَّا دَخَلَ عُثْمَانُ تَجَلَّلْتَ بِثَوْبِكَ، فَقَالَ: «أَلَا أَسْتَحْيِِي مِمَّنْ تَسْتَحْيِي مِنْهُ الْمَلَائِكَة؟ ُ»
ترجمہ

سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ایک دن رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور اپنا کپڑا اپنی دونوں رانوں کے درمیان رکھا ہوا تھا۔ اتنے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اسی حالت میں اجازت دے دی۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تو آپ نے انہیں اسی حالت میں اجازت دے دی۔ پھر کچھ لوگ آئے تو انہیں بھی اجازت دی۔ پھر علی رضی اللہ عنہ آئے تو آپ نے انہیں بھی اسی حالت میں اجازت دی، یہاں تک کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی تو آپ نے اپنے کپڑے سے خود کو ڈھانپ لیا، پھر انہیں اجازت دی۔ وہ کچھ دیر باتیں کرتے رہے پھر چلے گئے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کے پاس ابوبکر، عمر اور علی اور آپ کے کچھ صحابہ آئے، اور آپ اسی حالت میں رہے، ذرا حرکت نہ کی۔ پھر جب عثمان آئے تو آپ نے اپنے کپڑے سے خود کو ڈھانپ لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں؟”

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19659
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 205، حدیث 355