المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
باب تأويل قوله لولا إذ سمعتموه قلتم ما يكون لنا أن نتكلم بهذا سبحانك هذا بهتان عظيم باب: اللہ تعالیٰ کے فرمان ’جب تم نے یہ بات سنی تھی تو تم نے کیوں نہ کہا: ہمیں یہ بات کہنا زیب نہیں دیتا، اے اللہ تو پاک ہے، یہ تو بہت بڑا بہتان ہے‘ کی تفسیر — باب
حدیث نمبر: 19508
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: " {لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ} [النور: ١٢] ، يَعْنِي: «الْقَذْفَ» ، أَلَا {قُلْتُمْ مَا يَكُونُ لَنَا} [النور: ١٦] ، يَعْنِي: «مَا يَنْبَغِي لَنَا» ، {أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَذَا} [النور: ١٦] يَعْنِي: «بالْقَذْفَ، وَلَمْ تَرَ أَعْيُنُنَا» ، {سُبْحَانَكَ} [النور: ١٢] يَعْنِي: «أَلَا قُلْتُمْ سُبْحَانَكَ» ، {هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ} [النور: ١٦] يَعْنِي: " أَلَا قُلْتُمْ مِثْلَ مَا قَالَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَذَلِكَ أَنَّ سَعْدًا لَمَّا سَمِعَ قَوْلَ مَنْ قَالَ فِي أَمْرِ عَائِشَةَ قَالَ: سُبْحَانَكَ، هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ، وَالْبُهْتَانُ الَّذِي يَبْهَتُ فَيَقُولُ مَا لَمْ يَكُنْ "ترجمہ
سعید بن جبیر فرماتے ہیں: ”کیوں نہ جب تم نے یہ سنا“ [سورۃ النور: 12]، یعنی تہمت، کیوں نہ ”تم نے کہا کہ ہمیں“ [سورۃ النور: 16]، یعنی ہمیں مناسب نہ تھا، ”کہ ہم یہ بات کہیں“ [سورۃ النور: 16]، یعنی تہمت، ”جبکہ ہماری آنکھوں نے (کچھ) نہیں دیکھا“، ”سبحانک“ [سورۃ النور: 12]، یعنی کیوں نہ تم نے کہا: سبحانک! ”یہ تو بہت بڑا بہتان ہے“ [سورۃ النور: 16]، یعنی کیوں نہ تم نے وہی بات کہی جو سعد بن معاذ انصاری نے کہی؟ کیونکہ سعد نے جب سیدہ عائشہ کے بارے میں کہی گئی بات سنی تو کہا: سبحانک! یہ تو بہت بڑا بہتان ہے۔ اور بہتان وہ ہے کہ انسان دنگ رہ جائے اور ایسی بات کہے جو تھی ہی نہیں۔