المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
باب تأويل قوله لولا إذ سمعتموه قلتم ما يكون لنا أن نتكلم بهذا سبحانك هذا بهتان عظيم باب: اللہ تعالیٰ کے فرمان ’جب تم نے یہ بات سنی تھی تو تم نے کیوں نہ کہا: ہمیں یہ بات کہنا زیب نہیں دیتا، اے اللہ تو پاک ہے، یہ تو بہت بڑا بہتان ہے‘ کی تفسیر — باب
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ: " {لَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ} [النور: ١٢] ، يَعْنِي: «الْقَذْفَ» ، أَلَا {قُلْتُمْ مَا يَكُونُ لَنَا} [النور: ١٦] ، يَعْنِي: «مَا يَنْبَغِي لَنَا» ، {أَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَذَا} [النور: ١٦] يَعْنِي: «بالْقَذْفَ، وَلَمْ تَرَ أَعْيُنُنَا» ، {سُبْحَانَكَ} [النور: ١٢] يَعْنِي: «أَلَا قُلْتُمْ سُبْحَانَكَ» ، {هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ} [النور: ١٦] يَعْنِي: " أَلَا قُلْتُمْ مِثْلَ مَا قَالَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَذَلِكَ أَنَّ سَعْدًا لَمَّا سَمِعَ قَوْلَ مَنْ قَالَ فِي أَمْرِ عَائِشَةَ قَالَ: سُبْحَانَكَ، هَذَا بُهْتَانٌ عَظِيمٌ، وَالْبُهْتَانُ الَّذِي يَبْهَتُ فَيَقُولُ مَا لَمْ يَكُنْ "سعید بن جبیر فرماتے ہیں: ”کیوں نہ جب تم نے یہ سنا“ [سورۃ النور: 12]، یعنی تہمت، کیوں نہ ”تم نے کہا کہ ہمیں“ [سورۃ النور: 16]، یعنی ہمیں مناسب نہ تھا، ”کہ ہم یہ بات کہیں“ [سورۃ النور: 16]، یعنی تہمت، جبکہ ہماری آنکھوں نے (کچھ) نہیں دیکھا، ”سبحانک“ [سورۃ النور: 12]، یعنی کیوں نہ تم نے کہا: سبحانک! ”یہ تو بہت بڑا بہتان ہے“ [سورۃ النور: 16]، یعنی کیوں نہ تم نے وہی بات کہی جو سیدنا سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ نے کہی؟ کیونکہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے جب سیدہ عائشہ کے بارے میں کہی گئی بات سنی تو کہا: سبحانک! یہ تو بہت بڑا بہتان ہے۔ اور بہتان یہ ہے کہ آدمی کسی پر جھوٹ باندھے اور ایسی بات کہے جو ہوئی ہی نہیں۔