المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
باب نظر عائشة إلى جبريل عليه السلام باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سیدنا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا — باب
حدیث نمبر: 19401
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، قَالَ: ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا فَرَغَ مِنَ الْأَحْزَابِ دَخَلَ مُغْتَسِلًا يَغْتَسِلُ» ، فَجَاءَ جِبْرِيلُ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ قَدْ وَضَعْتُمْ أَسْلِحَتَكُمْ مَا وَضَعْنَا أَسْلِحَتَنَا بَعْدُ، اذْهَبْ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللهِ لَقَدْ رَأَيْتُهُ مِنْ خَلَلِ التُّرَابِ، قَدْ عَصَبَ التُّرَابُ رَأْسَهُترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب غزوۂ احزاب سے فارغ ہوئے تو غسل کرنے کے لیے اندر تشریف لے گئے، اتنے میں جبریل علیہ السلام آئے اور کہا: ”اے محمد! تم نے اپنے ہتھیار رکھ دیے، ہم نے ابھی اپنے ہتھیار نہیں رکھے، بنو قریظہ کی طرف چلیں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اے اللہ کے رسول! میں نے انہیں گرد و غبار کی اوٹ سے دیکھا، گرد نے ان کے سر کو باندھ رکھا تھا۔