المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
باب نظر عائشة إلى جبريل عليه السلام باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سیدنا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا — باب
حدیث نمبر: 19395
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ رَأَيْتُكَ تُكَلِّمُ دِحْيَةَ الْكَلْبِيَّ وَيَدَكَ عَلَى مَعْرِفَةِ الْفَرَسِ، فَقَالَ: «رَأَيْتِيهِ؟» ، فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «ذَاكَ جِبْرِيلُ وَهُوَ يُقْرِئُكِ السَّلَامَ» ، فَقُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ مِنْ صَاحِبٍ وَدَخِيلٍ، فَنِعْمَ الصَّاحِبُ وَنِعْمَ الدَّخِيلُترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو دحیہ کلبی سے بات کرتے دیکھا جبکہ آپ کا ہاتھ گھوڑے کی نکیل پر تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے اسے دیکھا؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جبریل تھے، تمہیں سلام کہہ رہے ہیں۔“ میں نے کہا: ان پر بھی سلام، اللہ کی رحمت اور برکتیں ہوں، کیا ہی اچھے ساتھی اور کیا ہی اچھے راز دار ہیں۔