المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
باب نظر عائشة إلى جبريل عليه السلام باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سیدنا جبریل علیہ السلام کو دیکھنا — باب
حدیث نمبر: 19390
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدَوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ، ثنا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ رَجُلٌ عَلَى بِرْذَوْنٍ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ قَدْ شَدَّ لَهَا مِنْ خَلْفِهِ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعٌ يَدَهُ عَلَى مَعْرِفَةِ الْبِرْذَوْنِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ مَنْ هَذَا؟ قَالَ: «وَرَأَيْتِيهِ؟» ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: «مَنْ هُوَ؟» ، قُلْتُ: دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ، قَالَ: «ذَاكَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ»ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا، آپ ﷺ کے ساتھ ایک آدمی ترکی گھوڑے (برذون) پر سوار تھا جس نے پگڑی باندھ رکھی تھی اور اس کا سرا پیچھے کی طرف لٹکا رکھا تھا، اور رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ اس گھوڑے کی ایال پر رکھا ہوا تھا۔ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم نے اسے دیکھا؟“ میں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ کون تھا؟“ میں نے کہا: دحیہ کلبی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ جبریل علیہ السلام تھے۔“