حدیث نمبر: 19324
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، ثنا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ، قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتَأْذَنَتْ هَالَةُ بِنْتُ خُوَيْلِدٍ أُخْتُ خَدِيجَةَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَبَّهَهُ بِاسْتِئْذَانِ خَدِيجَةَ فَارْتَاحَ لِذَلِكَ، فَقَالَ: «اللهُمَّ هَالَةُ» فَغِرْتُ، وَمَا غِرْتُ عَلَى أَحَدٍ مَا غِرْتُ عَلَى خَدِيجَةَ. زَادَ مِنْجَابٌ فِي حَدِيثِهِ: «لِكَثْرَةِ ذِكْرِهِ إِيَّاهَا، وَلَقَدْ تَزَوَّجَنِي بَعْدَهَا بِثَلَاثِ سِنِينَ»
ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی بہن سیدہ ہالہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ سے اندر آنے کی اجازت مانگی، تو ان کے اجازت مانگنے کا انداز سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کے اجازت مانگنے سے ملتا جلتا تھا، جس پر آپ ﷺ خوش ہو گئے اور فرمایا: ”اے اللہ! یہ ہالہ ہے۔“ اس پر مجھے غیرت آئی، اور مجھے کسی پر اتنی غیرت نہیں آئی جتنی سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آتی تھی۔ (راوی) منجاب نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا: ”آپ ﷺ کے ان کا کثرت سے ذکر کرنے کی وجہ سے، حالانکہ آپ ﷺ نے ان کے انتقال کے تین سال بعد مجھ سے نکاح کیا تھا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19324
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 23، صفحہ 12، حدیث 18