حدیث نمبر: 19243
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ، عَنْ عَوْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ جَعْفَرٍ، عَنْ جَدَّتِهَا، أَسْمَاءِ بِنْتِ عُمَيْسٍ، عَنْ فَاطِمَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهَا يَوْمًا فَقَالَ: «أَيْنَ ابْنَاي؟» ، يَعْنِي حَسَنًا وَحُسَيْنًا، قَالَتْ: أَصْبَحْنَا وَلَيْسَ فِي بَيْتِنَا شَيْءٌ يَذُوقُهُ ذَائِقٌ، فَقَالَ عَلِيٌّ: أَذْهَبُ بِهِمَا فَإِنِّي أَتَخَوَّفُ أَنْ يَبْكِيَا عَلَيْكِ، وَلَيْسَ عِنْدَكِ شَيْءٌ، فَذَهَبَ إِلَى فُلَانٍ الْيَهُودِيِّ فَتَوَجَّهَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَهُمَا يَلْعَبَانِ فِي شَرَبَةٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمَا فَضْلٌ مِنْ تَمْرٍ، فَقَالَ: «يَا عَلِيُّ، أَلَا تَقْلِبُ ابْنِيَّ قَبْلَ أَنْ يَشْتَدَّ عَلَيْهِمَا الْحَرُّ؟» فَقَالَ عَلِيٌّ: أَصْبَحْنَا وَلَيْسَ فِي بَيْتِنَا شَيْءٌ، فَلَوْ جَلَسْتَ يَا نَبِيَّ اللهِ حَتَّى أَجْمَعَ لِفَاطِمَةَ تَمَرَاتٍ، فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اجْتَمَعَ لِفَاطِمَةَ شَيْءٌ مِنْ تَمْرٍ، فَجَعَلَهُ فِي صُرَّتِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ فَحَمَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدَهُمَا، وَعَلَيَّ الْآخَرُ حَتَّى أَقْلِبَهُمَا "
ترجمہ

…موسیٰ بن یعقوب، عون بن محمد سے، وہ اپنی والدہ ام جعفر سے، وہ اپنی دادی سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے، وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن ان کے پاس آئے اور فرمایا: ”میرے دونوں بیٹے کہاں ہیں؟“ یعنی سیدنا حسن اور حسین رضی اللہ عنہما۔ انہوں نے کہا: ہم نے صبح کی اور ہمارے گھر میں کوئی چیز نہیں جسے کوئی چکھ سکے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں انہیں لے جاتا ہوں، کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ وہ تمہارے سامنے روئیں گے جبکہ تمہارے پاس کچھ نہیں۔ چنانچہ وہ ایک یہودی کے پاس گئے۔ نبی کریم ﷺ ان کی طرف گئے تو دیکھا کہ وہ دونوں ایک حوض میں کھیل رہے ہیں جس کے سامنے کھجوروں کی کچھ باقیات تھیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے علی! کیا تم میرے دونوں بیٹوں کو گرمی شدید ہونے سے پہلے واپس نہیں لے جاتے؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے صبح کی اور ہمارے گھر میں کچھ نہیں، اگر آپ اے اللہ کے نبی! بیٹھ جائیں تاکہ میں فاطمہ کے لیے کچھ کھجوریں جمع کر لوں۔ تو نبی کریم ﷺ بیٹھ گئے یہاں تک کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے کچھ کھجوریں جمع کر لیں، انہیں اپنی تھیلی میں رکھا، پھر واپس آئے، تو نبی کریم ﷺ نے ایک بیٹے کو اٹھایا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دوسرے کو، یہاں تک کہ انہیں واپس لے گئے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19243
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 422، حدیث 1040