حدیث نمبر: 19230
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى الْحُلْوَانِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ الْعَوَّامِ، عَنْ هِلَالِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللهِ وَالْفَتْحُ دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ، فَقَالَ: «إِنَّهُ قَدْ نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي فَبَكَتْ» فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَبْكِي فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لُحُوقًا لَاحِقًا بِي» فَضَحِكْتُ فَرَآهَا بَعْضُ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهَا: رَأَيْتُكَ بَكَيْتَ وَضَحَكْتَ قَالَتْ: إِنَّهُ قَالَ لِي: «نُعِيَتْ إِلَيَّ نَفْسِي» فَبَكَيْتُ فَقَالَ: «لَا تَبْكِي فَإِنَّكِ أَوَّلُ أَهْلِي لَاحِقًا بِي» فَضَحِكْتُ
ترجمہ

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: جب سورۃ النصر نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور فرمایا: ”میری وفات کی خبر مجھے دی جا چکی ہے۔“ تو وہ رو پڑیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”مت روؤ، کیونکہ تم میرے اہل میں سب سے پہلے مجھ سے آ ملو گی۔“ تو وہ ہنس پڑیں۔ نبی کریم ﷺ کی کسی زوجہ نے انہیں دیکھا تو ان سے کہا: میں نے تمہیں روتے اور ہنستے دیکھا۔ انہوں نے کہا: آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا تھا: ”مجھے میری وفات کی خبر دی جا چکی ہے“، تو میں رو پڑی، پھر فرمایا: ”مت روؤ، کیونکہ تم میرے اہل میں سب سے پہلے مجھ سے آ ملو گی“، تو میں ہنس پڑی۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند النساء / حدیث: 19230
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 415، حدیث 1027