المعجم الكبير للطبراني
مسند النساء— صحابیات رضی اللہ عنہن کی مسانید
الحسين بن علي، عن فاطمة باب: سیدنا حسین بن علی رضی اللہ عنہ کی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے روایات
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الْأَيْلِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ، يَقُولُ: خَرَجَ الْحُسَيْنُ وَهُوَ يُرِيدُ أَرْضَهُ الَّتِي بِظَاهِرِ الْحَرَّةِ، وَنَحْنُ نَمْشِي إِذْ أَدْرَكْنَا النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ عَلَى بَغْلَةٍ فَنَزَلَ، فَقَرَّبَهَا إِلَى الْحُسَيْنِ، فَقَالَ: ارْكَبْ يَا عَبْدَ اللهِ، فَكَرِهَ ذَلِكَ فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ مِنْ أَقْسَامِ النُّعْمَانِ عَلَيْهِ حَتَّى أَطَاعَ لَهُ الْحُسَيْنُ بِالرُّكُوبِ قَالَ: أَمَا إِذْ أَقْسَمْتَ فَقَدْ كَلَّفْتَنِي مَا أَكْرَهُ فَارْكَبْ عَلَى صَدْرِ دَابَّتِكَ، فَسَأُرْدِفُكَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الرَّجُلُ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِهِ وَصَدْرِ فِرَاشِهِ وَالصَّلَاةِ فِي مَنْزِلِهِ إِلَّا إِمَامًا يَجْمَعُ النَّاسَ عَلَيْهِ» فَقَالَ النُّعْمَانُ: صَدَقَتْ بِنْتُ مُحَمَّدٍ رَسُولَ اللهِ، سَمِعْتُ أَبِي بَشِيرًا يَقُولُ كَمَا قَالَتْ: فَاطِمَةُ، وَقَالَ رَسُولُ اللهِ َ: «إِلَّا مَنْ أَذِنَ فَرَكِبَ حُسَيْنٌ عَلَى السَّرْجِ وَرِدْفُهُ الْأَنْصَارِيُّ»…جب تم نے قسم دی ہے تو تم نے مجھ پر ایک ناپسندیدہ بات لازم کر دی، تم اپنی سواری کے اگلے حصے پر سوار ہو جاؤ، میں تمہیں پیچھے بٹھا لوں گا، کیونکہ میں نے فاطمہ بنت محمد ﷺ کو یہ کہتے سنا ہے: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”آدمی اپنی سواری کے اگلے حصے، اپنے بستر کے اگلے حصے، اور اپنے گھر میں نماز پڑھانے کا سب سے زیادہ حقدار ہے، سوائے اس امام کے جس کے پاس لوگ جمع ہوتے ہیں۔“ تو نعمان نے کہا: محمد ﷺ کی بیٹی نے سچ کہا، میں نے اپنے والد بشیر کو بھی وہی کہتے سنا جو فاطمہ نے کہا، اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”سوائے اس کے جسے اجازت دے دی جائے۔“ چنانچہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ زین پر سوار ہوئے اور ایک انصاری ان کے پیچھے بیٹھا۔