المعجم الكبير للطبراني
باب الجيم— حرف جیم سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
زهير بن معاوية، عن سماك باب: زہیر بن معاویہ کی سماک سے روایات
حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَلْطِيُّ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، قَالَا: ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ سَمُرَةَ، قَالَ: مَرِضَ رَجُلٌ فَصِيحَ عَلَيْهِ، فَجَاءَ جَارُهُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ مَاتَ، فَقَالَ: «مَا يُدْرِيكَ؟» قَالَ: أَنَا رَأَيْتُهُ يَا رَسُولَ اللهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ لَمْ يَمُتْ» فَرَجَعَ الرَّجُلُ فَصِيحَ عَلَيْهِ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: انْطَلِقْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبِرْهُ، فَقَالَ الرَّجُلُ: اللهُمَّ الْعَنْهُ، قَالَ: ثُمَّ انْطَلَقَ الرَّجُلُ فَرَاهُ قَدْ نَحَرَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصٍ مَعَهُ، فَانْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ، قَالَ: «مَا يُدْرِيكَ؟» قَالَ: رَأَيْتُهُ نَحَرَ نَفْسَهُ بِمَشَاقِصٍ مَعَهُ، قَالَ: «أَنْتَ رَأَيْتَهُ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «إِذًا لَا أُصَلِّي عَلَيْهِ»سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی بیمار ہو گیا تو اس پر رونا پیٹنا شروع ہو گیا (یعنی لوگوں نے اسے مردہ سمجھ کر نوحہ کرنا شروع کر دیا)۔ اس کا پڑوسی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہا: وہ فوت ہو گیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم؟“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے خود اسے دیکھا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”وہ نہیں مرا۔“ وہ آدمی واپس گیا تو (دوبارہ) اس پر رونا پیٹنا ہونے لگا، اس کی بیوی نے کہا: رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤ اور انہیں بتاؤ۔ اس آدمی نے کہا: اے اللہ! اس پر لعنت کر۔ پھر وہ آدمی گیا تو دیکھا کہ اس نے اپنے پاس موجود تیروں کے پھلوں سے خود کو ذبح کر لیا ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس گیا اور بتایا کہ وہ فوت ہو گیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہیں کیسے معلوم؟“ اس نے کہا: میں نے دیکھا کہ اس نے اپنے پاس موجود تیروں کے پھلوں سے خود کو ذبح کر لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم نے خود دیکھا؟“ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تب تو میں اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھوں گا۔“