حدیث نمبر: 19181
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سَوَّارٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: تُوُفِّيَ أَبُو قَيْسٍ، وَكَانَ مِنْ صَالِحِي الْأَنْصَارِ فَخَطَبَ ابْنُهُ قَيْسُ امْرَأَتَهُ، فَقَالَتْ: أَنَا أَعِدَكَ، وَلَدًا وَأَنْتَ، مِنْ صَالِحِي قَوْمِكَ، وَلَكِنِّي آتِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْتَأْمِرُهُ فَأَتَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّ أَبَا قَيْسٍ تُوُفِّيَ، فَقَالَ لَهَا خَيْرًا قَالَتْ: وَإِنَّ ابْنَهُ قَيْسًا خَطَبَنِي وَهُوَ مِنْ صَالِحِي قَوْمِهِ وَإِنَّمَا كُنْتُ أَعِدُهُ وَلَدًا فَقَالَ لَهَا: " ارْجِعِي إِلَى بَيْتِكِ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ {وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ} [النساء: ٢٢] "
ترجمہ

انصار میں سے ایک آدمی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوقیس رضی اللہ عنہ، جو نیک انصاریوں میں سے تھے، فوت ہو گئے، تو ان کے بیٹے قیس نے ان کی بیوی کو نکاح کا پیغام بھیجا۔ اس عورت نے کہا: میں تو تمہیں اپنی اولاد سمجھتی ہوں، اور تم اپنی قوم کے نیک لوگوں میں سے ہو، لیکن میں رسول اللہ ﷺ کے پاس جا کر ان سے مشورہ لوں گی۔ چنانچہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور عرض کیا: ابوقیس فوت ہو گئے ہیں۔ آپ ﷺ نے اس کے حق میں اچھی بات فرمائی۔ اس نے کہا: اور ان کے بیٹے قیس نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے، جبکہ وہ اپنی قوم کے نیک لوگوں میں سے ہے، اور میں تو اسے اپنی اولاد سمجھتی تھی۔ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اپنے گھر واپس چلی جاؤ۔“ تو یہ آیت نازل ہوئی: ”اور ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جن سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں“ [سورۃ النساء: 22]۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند من يعرف بالكنى / حدیث: 19181
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 393، حدیث 978