حدیث نمبر: 19144
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ النَّحْوِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ الْيَحْصِبِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي رَائِطَةَ بْنِ كَرَامَةَ الْمَذْحِجِيِّ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «الْقَوْمُ سَفْرَى، لَا يَصْحَبَنَّكُمْ خِلَالٌ مِنْ هَذِهِ النَّعَمِ، يَعْنِي الضَّوَالَّ، وَلَا يَصْحَبَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ ضَالَّةً وَلَا يَرُدَّنَّ سَائِلًا، إِنْ كُنْتُمْ تُرِيدُونَ الرِّبْحَ وَالسَّلَامَةَ، وَلَا يَصْحَبَنَّكُمْ مِنَ النَّاسِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ سَاحِرٌ وَلَا سَاحِرَةٌ وَلَا كَاهِنٌ وَلَا كَاهِنَةٌ وَلَا مُنَجِّمٌ وَلَا مُنَجَّمَةٌ وَلَا شَاعِرٌ وَلَا شَاعِرَةٌ، وَإِنَّ كُلَّ عَذَابٍ يُرِيدُ اللهُ أَنْ يُعَذِّبَ بِهِ أَحَدًا مِنْ عِبَادِهِ فَإِنَّمَا يَبْعَثُ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَأَنْهَاكُمْ عَنْ مَعْصِيَةِ اللهِ عِشَاءً»
ترجمہ

سیدنا ابورائطہ بن کرامہ مذحجی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ قوم مسافر ہے، ان جانوروں میں سے کوئی بھٹکا ہوا جانور تمہارے ساتھ نہ ہو، یعنی گم شدہ جانور، اور تم میں سے کوئی کسی گم شدہ جانور کے ساتھ نہ جائے، اور کسی مانگنے والے کو خالی ہاتھ نہ لوٹاؤ، اگر تم فائدہ اور سلامتی چاہتے ہو۔ اور اگر تم اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو تمہارے ساتھ لوگوں میں سے کوئی جادوگر مرد ہو نہ جادوگر عورت، نہ کوئی کاہن ہو نہ کاہنہ، نہ کوئی نجومی مرد ہو نہ نجومی عورت، نہ کوئی شاعر مرد ہو نہ شاعرہ۔ اور جو عذاب بھی اللہ اپنے کسی بندے کو دینا چاہتا ہے وہ اسے آسمانِ دنیا کی طرف بھیج دیتا ہے، تو میں تمہیں رات کے وقت اللہ کی نافرمانی سے منع کرتا ہوں۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند من يعرف بالكنى / حدیث: 19144
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 376، حدیث 941