المعجم الكبير للطبراني
مسند من يعرف بالكنى— کنیت سے معروف صحابہ کی مسانید
من يكنى أبا الخطاب أبو الخطاب باب: جن کی کنیت ابوالخطاب ہے — سیدنا ابوالخطاب رضی اللہ عنہ
حدیث نمبر: 19130
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسِ بْنِ كَامِلٍ السَّرَّاجُ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ ثُوَيْرِ بْنِ أَبِي فَاخِتَةَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَالُ لَهُ أَبُو الْخَطَّابِ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْوِتْرِ فَقَالَ: " أُحِبُّ أَنْ أُوتِرَ نِصْفَ اللَّيْلِ؛ إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَهْبِطُ مِنَ السَّمَاءِ الْعُلْيَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ؟ هَلْ مِنْ دَاعٍ؟ حَتَّى إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ ارْتَفَعَ "ترجمہ
سیدنا ابوالخطاب رضی اللہ عنہ، جو نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک تھے، سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے وتر کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں پسند کرتا ہوں کہ آدھی رات کو وتر پڑھوں، بے شک اللہ عزوجل سب سے اوپر کے آسمان سے آسمانِ دنیا کی طرف اترتا ہے، پھر فرماتا ہے: کوئی مانگنے والا ہے؟ کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے؟ کوئی دعا کرنے والا ہے؟ یہاں تک کہ جب فجر طلوع ہوتی ہے تو (یہ سلسلہ) اٹھ جاتا ہے۔“