المعجم الكبير للطبراني
مسند من يعرف بالكنى— کنیت سے معروف صحابہ کی مسانید
من يكنى أبا المنذر أبو المنذر باب: جن کی کنیت ابومنذر ہے — سیدنا ابومنذر رضی اللہ عنہ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ ثَعْلَبٍ، عَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ: أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ فُلَانًا هَلَكَ فَصَلِّ عَلَيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّهُ فَاجِرٌ فَلَا تُصَلِّ عَلَيْهِ، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَمْ تَرَ اللَّيْلَةَ الَّتِي صُحِبْتَ فِيهَا فِي الْحَرَسِ فَإِنَّهُ كَانَ فِيهِمْ؟، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى عَلَيْهِ، ثُمَّ تَبِعَهُ حَتَّى إِذَا جَاءَ قَبْرَهُ قَعَدَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْهُ حَثَى عَلَيْهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ، ثُمَّ قَالَ: «يُثْنِي عَلَيْكَ النَّاسُ شَرًّا وَأُثْنِي عَلَيْكَ خَيْرًا» ، فَقَالَ عُمَرُ: وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «دَعْنَا مِنْكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ، مَنْ جَاهَدَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ»ابومنذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! فلاں شخص فوت ہو گیا ہے، آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: وہ تو بدکار ہے، اس کی نماز جنازہ نہ پڑھائیں۔ اس شخص نے کہا: یا رسول اللہ! کیا آپ کو وہ رات یاد نہیں جب آپ کے ساتھ پہرہ داروں میں یہ شخص بھی شامل تھا؟ تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور اس میت کی نماز جنازہ پڑھائی، پھر آپ ﷺ اس کے پیچھے چلے یہاں تک کہ جب اس کی قبر پر پہنچے تو بیٹھ گئے، جب اس کی تدفین سے فارغ ہوئے تو تین لپیں مٹی ڈالی، پھر فرمایا: ”لوگ تمہارے بارے میں بری باتیں کہتے ہیں اور میں تمہارے بارے میں اچھی بات کہتا ہوں۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یہ کیسے، یا رسول اللہ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اے ابن خطاب! ہمیں چھوڑو، جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرے اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔“