المعجم الكبير للطبراني
مسند من يعرف بالكنى— کنیت سے معروف صحابہ کی مسانید
من يكنى أبا سعيد أبو سعيد بن المعلى اسمه رافع باب: جن کی کنیت ابوسعید ہے — سیدنا ابوسعید بن معلیٰ رضی اللہ عنہ، نام رافع تھا
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ بْنُ عُثْمَانَ، أَنَّ عُبَيْدَ بْنَ حُنَيْنٍ، أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى قَالَ: كُنَّا نَغْدُو إِلَى السُّوقِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَمُرُّ عَلَى الْمَسْجِدِ فَنُصَلِّي فِيهِ فَمَرَرْنَا يَوْمًا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقُلْتُ: لَقَدْ حَدَثَ أَمَرٌ فَجَلَسْتُ فَقَرَأَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذِهِ الْآيَةَ: " {قَدْ نَرَى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ} [البقرة: ١٤٤] حَتَّى فَرَغَ مِنَ الْآيَةِ، فَقُلْتُ لِصَاحِبِي: «تَعَالَ حَتَّى نَرْكَعَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَكُونَ أَوَّلَ مَنْ صَلَّى، فَتَوَارَيْنَا فَصَلَّيْنَاهُمَا، ثُمَّ نَزَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى لِلنَّاسِ الظُّهْرَ يَوْمَئِذٍ»سیدنا ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں صبح سویرے بازار کی طرف جایا کرتے تھے، اور مسجد کے پاس سے گزر کر اس میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے۔ ایک دن ہم گزرے تو رسول اللہ ﷺ منبر پر بیٹھے ہوئے تھے، تو میں نے کہا: کوئی نیا معاملہ پیش آیا ہے، چنانچہ میں بیٹھ گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ”ہم تمہارا چہرہ بار بار آسمان کی طرف اٹھتے دیکھ رہے ہیں“ [سورۃ البقرہ: 144] یہاں تک کہ آیت مکمل کر لی۔ میں نے اپنے ساتھی سے کہا: آؤ ہم دو رکعت پڑھ لیں اس سے پہلے کہ رسول اللہ ﷺ اتریں، تاکہ ہم سب سے پہلے (نئے قبلے کی طرف) نماز پڑھنے والے بن جائیں۔ چنانچہ ہم چھپ گئے اور دونوں رکعتیں پڑھیں، پھر رسول اللہ ﷺ اترے اور اس دن لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی۔