المعجم الكبير للطبراني
مسند من يعرف بالكنى— کنیت سے معروف صحابہ کی مسانید
من يكنى أبا سعيد أبو سعيد بن المعلى اسمه رافع باب: جن کی کنیت ابوسعید ہے — سیدنا ابوسعید بن معلیٰ رضی اللہ عنہ، نام رافع تھا
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي فَدَعَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أُجِبْهُ فَلَمَّا قَضَيْتُ الصَّلَاةَ، قَالَ: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تَكُونَ أَجَبْتَنِي أَنْ دَعَوْتُكَ؟» ، فَإِنَّ اللهَ يَقُولُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ} [الأنفال: ٢٤] ، ثُمَّ قَالَ: «لَا تَخْرُجْ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى أُعَلِّمَكَ سُورَةً فِي الْقُرْآنِ» ، قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَذَكَّرْتُهُ فَقَالَ: «فَاتِحَةُ الْكِتَابِ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ»سیدنا ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلایا، میں نے آپ ﷺ کو جواب نہ دیا۔ جب میں نے نماز مکمل کر لی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب میں نے تمہیں بلایا تو تمہیں جواب دینے سے کس چیز نے روکا؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ایمان والو! اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کہو جب وہ تمہیں ایسی چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے۔ [سورۃ الانفال: 24]“ پھر فرمایا: ”مسجد سے نکلنے سے پہلے میں تمہیں قرآن کی ایک سورت سکھاؤں گا۔“ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چلا، یہاں تک کہ آپ ﷺ مسجد سے نکلنے کے قریب پہنچ گئے تو میں نے آپ ﷺ کو یاد دلایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ سورۃ فاتحہ ہے، جو سبع مثانی اور وہ عظیم قرآن ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔“