حدیث نمبر: 18972
حَدَّثَنَا يُوسُفُ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي فَدَعَانِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أُجِبْهُ فَلَمَّا قَضَيْتُ الصَّلَاةَ، قَالَ: «مَا مَنَعَكَ أَنْ تَكُونَ أَجَبْتَنِي أَنْ دَعَوْتُكَ؟» ، فَإِنَّ اللهَ يَقُولُ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ} [الأنفال: ٢٤] ، ثُمَّ قَالَ: «لَا تَخْرُجْ مِنَ الْمَسْجِدِ حَتَّى أُعَلِّمَكَ سُورَةً فِي الْقُرْآنِ» ، قَالَ: فَمَشَيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى كَادَ أَنْ يَخْرُجَ مِنَ الْمَسْجِدِ فَذَكَّرْتُهُ فَقَالَ: «فَاتِحَةُ الْكِتَابِ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُهُ»
ترجمہ

سیدنا ابوسعید بن معلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے بلایا، میں نے آپ ﷺ کو جواب نہ دیا۔ جب میں نے نماز مکمل کر لی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب میں نے تمہیں بلایا تو تمہیں جواب دینے سے کس چیز نے روکا؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ایمان والو! اللہ اور رسول کی پکار پر لبیک کہو جب وہ تمہیں ایسی چیز کی طرف بلائیں جو تمہیں زندگی بخشے۔ [سورۃ الانفال: 24]“ پھر فرمایا: ”مسجد سے نکلنے سے پہلے میں تمہیں قرآن کی ایک سورت سکھاؤں گا۔“ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چلا، یہاں تک کہ آپ ﷺ مسجد سے نکلنے کے قریب پہنچ گئے تو میں نے آپ ﷺ کو یاد دلایا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ سورۃ فاتحہ ہے، جو سبع مثانی اور وہ عظیم قرآن ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / مسند من يعرف بالكنى / حدیث: 18972
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 22، صفحہ 303، حدیث 768