المعجم الكبير للطبراني
باب الياء— حرف یا سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
من اسمه يحيى يحيى بن أزهر أسعد بن زرارة الأنصاري، عنه باب: جن کا نام یحییٰ ہے — یحییٰ بن ازہر بن اسعد بن زرارہ انصاری کی اپنے پردادا سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ سے روایت
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى وَمَا أَدْرَكْتُ رَجُلًا مِنَّا بِهِ شَبِيهًا يُحَدِّثُ النَّاسَ أَنَّ أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ وَهُوَ جَدُّ مُحَمَّدٍ أَخَذَهُ وَجَعٌ فِي حَلْقِهِ يُقَالُ لَهُ الذُّبْحَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَأُبْلِغَنَّ أَوْ لَأُبْلِيَنَّ فِي أَبِي أُمَامَةَ عُذْرًا» ، فَكَوَاهُ بِيَدِهِ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِئْسَ الْمَيِّتُ لِلْيَهُودِ» ، يَقُولُونَ: «أَفَلَا دَفَعَ عَنْ صَاحِبِهِ وَمَا أَمْلِكُ لَهُ وَلَا لِنَفْسِي مِنَ اللهِ شَيْئًا»...یحییٰ سے روایت کرنے والا کہتا ہے: اور ہم میں سے کسی کو بھی ان جیسا کوئی شخص نہیں ملا، وہ لوگوں سے بیان کرتے تھے کہ اسعد بن زرارہ - جو محمد کے دادا تھے - کو گلے کی ایک بیماری لاحق ہوئی جسے 'ذبحہ' کہا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں ضرور کوشش کروں گا، ابوامامہ کے بارے میں ضرور عذر پیش کروں گا“، پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے انہیں داغ لگایا تو وہ وفات پا گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہودیوں کے لیے یہ کیسی بری موت ہے!“ کیونکہ وہ کہہ رہے تھے: کیا انہوں نے اپنے ساتھی کو موت سے نہ بچایا؟ (آپ ﷺ نے فرمایا:) ”میں اپنے لیے اور اس کے لیے اللہ کے سامنے کسی چیز کا اختیار نہیں رکھتا۔“